حیدرآباد، 7؍ فروری(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا) مڈل آرڈر کے بلے باز چتیشور پجارا نے اعتراف کیا ہے کہ بنگلہ دیش کے خلاف 9 فروری سے شروع ہونے والے ٹیسٹ میچ میں ٹیم انڈیا کا پلڑا بھاری ہے لیکن ٹیم انڈیا کو اپنی جیت پکی مان کر نہیں چلنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ٹیسٹ سیریز میں انگلینڈ کے خلاف بہترین کارکردگی کے باوجود مہمان بنگلہ دیش کی ٹیم کو ہلکے سے نہیں لیا جا سکتا۔ پجارا نے صحافیوں سے بات چیت کے دوران کہاکہ وہ برصغیر میں اچھا کھیلتے رہے ہیں، ہم انہیں ہلکے سے نہیں لے سکتے ہیں لیکن یہ بھی نہیں بھولنا چاہئے کہ ہم نے 2016 میں بہت اچھی کرکٹ کھیلی اور امید ہے کہ ہم اسی کارکردگی کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہیں گے، اب ہم دنیا کی نمبر ایک ٹیم ہیں، ہم 2017 میں بھی 2016 جیسی کارکردگی دہرانا چاہیں گے۔ہندوستانی ٹیم اعتماد سے بھری ہے، اس نے انگلینڈ کو تینوں فارمیٹس میں شکست دی تھی، پجارا نے کہاکہ جہاں تک حکمت عملی کی بات ہے تو ہم اس پر بعد میں بات کریں گے لیکن میرا خیال ہے کہ اگر ہم اچھی کرکٹ کھیلتے ہیں تو ہم یقینی طور پر انہیں شکست دے سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کھیل کے حالات اس میچ میں معنی نہیں رکھیں گے کیونکہ برصغیر میں ایک اسی ہوتی ہیں اور ایسے میں جو ٹیم اچھی کرکٹ کھیلے گی وہ جیت درج کرنے میں کامیاب رہے گی۔ انہوں نے کہاکہ جس طرح سے ہم نے 2016 میں کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا اسے دیکھتے ہوئے شاید ہمارا پلڑا تھوڑا بھاری رہے گا۔ تیز گیند باز اچھی گیند بازی کر رہے ہیں، نچلے آرڈر کے بلے باز کردار ادا کر رہے ہیں اور باقی بلے باز بھی اسکور کھڑا کر رہے ہیں، میرا خیال ہے کہ اگر ہم ایک ٹیم کے طور پر کھیلتے ہیں، اس کی صلاحیت سے کھیلتے ہے تو پھر میچ میں ہمارا پلڑا بھاری رہے گا۔
پجارا نے کہا کہ مصروف پروگرام کوئی مسئلہ نہیں ہے کیونکہ کھلاڑی نوجوان اور فٹ ہیں۔ انہوں نے کہاکہ کرکٹ کھیلنا ہمیشہ ہی اچھا رہتا ہے، ہم سب نوجوان ہیں اور کرکٹ کھیلنے کا لطف اٹھا رہے ہیں۔بنگلہ دیش کے مہدی حسن کے بارے میں پوچھنے پر پجارا نے کہا کہ نوجوان بولر اچھی کارکردگی دکھا رہا ہے لیکن جب تک وہ ان کا سامنا نہیں کرتے تب تک اس بارے میں زیادہ نہیں بول سکتے۔ پجارا نے کہاکہ میں نے اسے انگلینڈ کے خلاف بولنگ کرتے ہوئے دیکھا، وہ اچھا بولر لگتا ہے لیکن اس کا سامنا کرنے کے بعد ہی میں نے اس بارے میں زیادہ جان پاؤں گا۔